ابنا: فرانس کی ٹوٹل کمپنی نےپیرکےدن کہاتھاکہ یہ کمپنی لیبیاکےحالات پرکڑی نظررکھےہوئےہے تاکہ مناسب وقت پراس ملک سےتیل نکالنےکام شروع کردے۔
اٹلی کےوزیرخارجہ فرانک فرانکوٹینی نےبھی اس بات کی جانب اشارہ کرتےہوئےکہ اٹلی کی آنی کمپنی اس وقت قذافی کےمخالفین کےساتھ لیبیاکی آئل تنصیبات کوپھرسےشروع کرنےکےلئےتعاون کررہی ہے اٹلی کی تیل کمپنیوں کواطمینان دلایاکہ لیبیاکی آئندہ حکومت ماضی کےتمام معاہدوں کااحترام کرےگی۔
برطانیہ کی بریٹش پیٹرولیم نےبھی اعلان کیاہےکہ لیبیاکی عبوری حکومت کی جانب سےاجازت ملتےہی بریٹیش پیٹرولیم اس ملک میں اپنی سرگرمیاں شروع کردےگی۔ اس طرح لیبیامیں جنگ کاسلسلہ ختم ہونےسےپہلےہی مغربی ممالک کےدرمیان لیبیاکےتیل کےحصول کی جنگ شروع ہوگئی ہے۔ لیبیاکےتیل کی اعلی کوالٹی اوراس کی آئیل تنصیبات کامڈیٹیرین سی کےقریب ہونےکی بنا پراس ملک کاتیل لوٹنےکےلئےمغربی ممالک کی للچائی نگاہوں میں چمک پیداہوگئ ہے۔ لیبیامیں چھ مہینوں کی جنگ کےبعد ایسےعالم میں جب اس ملک کےانقلابی اقتدارسنبھالنے اورملک کانظم ونسق اپنےہاتھ میں لینےکی تیاری کررہےہيں، اس ملک کےعوام کوتشدد رکنےاوراپنےملک کی تعمیرنو کی ضرورت ہے اورتوقع یہ ہےکہ بیرونی ممالک ملک میں استحکام قائم کرنےميں لیبیاکےعوام کی مددکریں گےلیکن ایسانظرآتاہےکہ مغربی ممالک کچہ اورہی خواب دیکھ رہےہیں۔ مغربی ممالک ایسےعالم میں لیبیاکاتیل لوٹنےکی کوشش میں لگےہوئےہيں کہ اس ملک پراپنےحملوں سےپیداہونےوالےنقصانات کی تعمیرکےبارےمیں سوچ بھی نہيں رہےہیں۔ لیبیاکےتیل کےذخائرسےاستفادہ کےلئےمغربی ممالک کےدرمیان دوڑ اورمقابلہ آرائی اورعلاقےمیں اپنااثرنفوذبڑھانےکےلئےاس ملک کواستعمال کرنےکی مغربی ممالک کی امید افریقہ میں ایک اور بحران کی زمین ہموارکرسکتی ہے۔
............
/169